- سلام علیکمآغا سیستانی نے مور کو حلال کیوں قرار دیا ہے؟برائے کرم مجھے اُن کے دفتر سے نہیں خود اُن سے جواب لے دیجیئے؟آج کل پاکستان میں اخباریت عروج پر ہے اور وہ اپنی توانائیاں سرف کر رہی ہے کہ لوگوں کو اجتہاد سے دور کیا جائے باقر نثار نے ایک کتاب لکھی ہے بنام کشف التضاد جس میں آغا الخوئی،آغا خمینی،آغا خامنہ ای،آغا فاضل لنکرانی اور آغا سیستانی کی توضیح سے اقتباسات لیئے ہیں اور کوشش کی ہے کہ لوگوں کو باور کرائے کہ ان مراجع عظام میں اختلاف ہیں قول معصوم اور ہے اور ان کا فتویٰ اور ہےمیں آپکی توجہ اُس کی کتاب کے صفحہ نمبر 314 پر دلاتا ہوں جس میں اُس نے سرخی لگائی ہےحلال و حرام جانوروں کے احکامتوضیح المسائل آغا سیستانی صفحہ نمبر 398 مسئلہ 2633 پر لکھا ہےمور حلال ہےتوضیح المسائل آغا الخوئی صفحہ نمبر 391 مسئلہ 2633 پر لکھا ہےمور کا گوشت حرام ہےاسی صفحہ پر قول معصول لکھا ہےامام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایاخرگوش اور مور کھانا جائز نہیںبحوالہ کتاب من لایحضرالفقیہ جلد 3 حدیث 4197اب ایک مخصوص قسم کے لوگ جو اس قسم کے لوگوں سے وابستہ ہیں وہ کہتے ہیں دیکھو قول معصوم اور مجتہدین عظام میں اختلاف ہےحوالے ہم نے چیک کیئے ہیں اردو کتابوں کے حوالے ہیں اور درست ہیںچونکہ بیان کیا جاتا ہےحلال محمد حلال الی یوم القیامہ و حرامہ حرام الی یوم القیامہ(قوانین الشریعہ فی فقہ جعفریہ جلد ا صفحہ 35)اب آپ مہربانی کریں اور ہمیں اس اُلجھن سے باہر نکالیںکہ حلال حرام میں اختلاف کیوں؟والسلامسید سفیر کاظمیپاکستانابنا: علیکم السلامحلال محمد (ص) قیامت تک حلال اور حرام محمد(ص) بھی قیامت حرام ہے اس میں کوئی دورائے نہیں ہے۔ لیکن اس حرام و حلال کو سمجھنے میں بعض اوقات اشتباہ ہو سکتا ہے چونکہ ہم عصر وحی سے بہت دور ہو چکے ہیں اور اس دوران لاکھوں قسم کی مشکلات انتقال دین کے سلسلے میں پیش آئیں ہیں جیسے منع حدیث، جعل حدیث، راویوں حالات کا مجہول ہونا، شیعہ کتابوں کو نابود کر دیا جانا، کتابخانوں کو نذر آتش کر دیا جانا، وغیرہ وغیرہ، جن کی وجہ سے کسی مسئلہ کو احادیث کی روشنی میں سمجھنے اور اس کےبارے میں فتویٰ دینے میں سینکڑوں پاٹر بیلنا پڑتےہیں۔ مجتہدین حضرات فتویٰ دینے سے پہلے اصولی قواعد کی بنا پر اپنے لیے معیارات اور مبانی قائم کرتے ہیں جن کی روشنی میں وہ فتویٰ دیتے ہیں۔ یہی مبانی اور معیارات اس بات کا باعث بنتے ہیں کہ مجتہدین حضرات کے فتووں میں اختلاف پایا جاتا ہو۔ اور اس چیز کی ائمہ معصومین نے اجازت دی ہے کہ مجتہد تلاش و کوشش کرے تتبع کرے اور اس کے بعد فتویٰ دے اگر اس کا فتویٰ حقیقت کے مطابق ہو گا تو اس کو دو ثواب ملے گے لیکن اگر خلاف واقع ہو گا تو ایک ثواب۔ اس درمیان عوام کا صرف یہ فریضہ ہے کہ وہ جامع الشرائط مجتہدین میں سے کسی ایک کی تقلید کریں جس چیز کو وہ حرام سمجھتا ہے اس سے اجتناب کریں جسے حلال اسے انجام دیں۔ قیامت میں عوام سے یہ سوال نہیں ہو گا کہ یہ چیز حقیقت میں حرام تھی تو نے حلال کیوں سمجھی۔ یہ سوال اگر ہو گا مجتہد سے ہو گا عوام اس سلسلے میں بری الذمہ ہے عوام سے یہ سوال کیا جائے گا کہ انہوں نے اپنے مجتہد کے کہنے پر عمل کیوں نہیں کیا۔ اس لیے عصر میں مجتہدین کی ہر بات با تائید امام زمانہ(ع) عوام کے لیے حجت ہے۔رہی بات آپ کی یہ کہ آپ کو جواب خود آقائے سیستانی سے چاہیے۔ آقائے سیستانی ہماری دسترس سے باہر ہیں ہم خود ان سے کوئی مسئلہ پوچھنے سے معزور ہیں۔ والسلام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
16 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 463804
آغا سیستانی نے مور کو حلال کیوں قرار دیا ہے؟برائے کرم مجھے اُن کے دفتر سے نہیں خود اُن سے جواب لے دیجیئے؟